Online AL-Aziz Herbal Clinic

Opening Hours : Monday to Sunday
  Contact : +92 321-111-0981  

ذیادہ عمر کی شادی

زیادہ عُمر کی شادی کے نقصانات

ایسی لڑکیاں جن کی مناسب عمر میں شادی نہیں ہوتی وہ کم عُمر کی لڑکیوں کی شادی کے نقصانات سے زیادہ کا شکار ہو سکتی ہیں اور ان کے نقصانات زیادہ سنگین ہوتے ہیں‘ جیسے:

ایسی لڑکیاں جن کی مناسب عُمرمیں شادی نہیں ہو پاتی وہ مختلف ذہنی و نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتی ہیں‘ جیسے ڈپریشن‘ ہسٹریا‘ فرسٹڑیشن وغیرہ۔

          لڑکیوں کی جوں جوں عُمربڑھتی جاتی ہے ان کے چہرے کی جاذبیت کم ہوتی جاتی ہے جس کی وجہ سے مناسب رشتے نہیں ملتے۔

          ایسی لڑکیاں عموماََ احساسِ کمتری کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لیے کنواری رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

          ایسی لڑکیوں کو حاملہ ہونے میں دُشواری کا سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے کئی معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں۔

          ایسی لڑکیاں اگر حاملہ ہو جائیں تو نہ صرف دورانِ حمل مختلف پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ ان کے پیدا ہونے والے بچوں میں بھی نقص ہوتا ہے۔

          دیر سے شادی ہونے کی صُورت میں عورت صرف ایک دو بچے ہی پیدا کر کے سنِ یاس کا شکار ہو جاتی ہے۔

          زیادہ عُمرمیں جا کر ازدواجی زندگی شروع کرنے والی خواتین میں پستان اور رحم کا کینسر زیادہ ہوتا ہے۔

          زیادہ عُمر کی خواتین کے بچے نہ صرف جسمانی طور پر کمزوری کا شکار ہوتے ہیں بلکہ دورانِ پرورش بھی ان میں کئی پیچیدگیاں پید اہو سکتی ہیں۔

          زیادہ عُمرکی لڑکیاں جنسی طور پر اپنے خاوند کے لیے زیادہ پُرکشش ثابت نہیں ہوتیں۔

          دیر سے شادی کرنے سے لڑکی کو جنسی طور پر آسودگی حاصل نہیں ہو پاتی جس کی وجہ سے دونوں فریقین میں ذہنی سکون نہیں پایا جاتا۔

Read More

کم عمر کی شادی

کم عُمر کی شادی کے نقصانات

علمِ صحت کے اصول کے مطابق جاندار اور پودے اپنے جوبن پر پہنچ کر ہی پھل پھول پیدا کرتے ہیں‘ اسی اصول کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے‘ انسان کو بھی اسی وقت اولاد پیدا کرنی چاہیے جب وہ ذہنی و جسمانی پختگی حاصل کرلے۔ اگر لڑکیوں کی شادی مناسب عُمر کے پہنچنے سے قبل ہی کر دی جائے تو ناصر ف اس کی جسمانی نشوونما رُک جائے گی بلکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد بھی طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو گی۔ کم عُمری کی شادی کے نتیجے میں حمل ٹھہر جائے تو وضع حمل کے وقت کئی مشکلا ت کا سامنا رہتا ہے اور عموماََ لڑکی کی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔

کم عُمری کی شادی اس لیے بھی مناسب نہیں ہوتی کہ ابھی لڑکی ذہنی طور پر اتنی پختہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے گھر کی ذمہ داریاں نبھا سکے جس کی وجہ سے کئی معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں۔ کم عُمر کی شادی

کے چیدہ چیدہ نقصانات درج ذیل ہیں:

لڑکی جسمانی طور پر شادی کے لیے تیار نہیں ہوتی جس کی وجہ سے جسمانی طور پر کئی پیچیدگیاں پیدا ہونے کاخدشہ موجود ہوتا ہے۔

   اس دور میں لڑکی کا جسم ایک کونپل کی طرحانتہائی نرم و نازک ہوتا ہے‘ اسلیے یہ ازدواجی ذمہ داریوں اور بچے کی پیدائش کے لوازمات کو پوری طرح سے ادا کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔

   بہت جلد شادی کرنے سے لڑکی کی جسمانی نشوونما رُک جاتی ہے اور بالخصوص پیلوس کی ہڈیوں کی نشوونما مکمل نہیں ہو پاتی جس کی وجہ سے وضع حمل کے وقت کئی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔

   ایسی لڑکیاں جو پیدائشی طور پر کمزور ہوں یا دبلی پتلی ہوں‘ ان کی جلد شادی کردینے سے قد ووزن کم رہ جاتا ہے اور وہ دیکھنے میں بونی لگتی ہیں۔

   اس عُمر کی لڑکیاں اتنی باشعور نہیں ہوتیں کہ وہ نئے گھر میں جا کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکیں‘ جس کی وجہ سے کئی معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں۔

   اس عُمر کی لڑکیاں ذہنی طور پر اتنی پختگی نہیں رکھتیں کہ وہ عملی زندگی کے لوازمات کو بہتر طریقے سے چلا سکیں جس کی وجہ سے ازدواجی زندگی پُرسکون نہیں رہتی۔

   اگر میاں کی عُمر بیوی کی عُمر سے زیادہ ہو تو کم عُمر کی بیوی اور پختہ عمر کے خاوند میں ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے جس کی وجہ سے زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔

   ساس بہو کے جھگڑے زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ساس اپنی بہو سے زیادہ کی طلب گار ہوتی ہے لیکن بہو کم فہمی کی بناءپر اس کی اُمیدوں پر پورا اترنے سے قاصر ہوتی ہے۔

   کم عُمر کی شادی سے عموماََ لڑکیوںکی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہتر شہری ثابت نہیں ہوتیں۔

   کم عُمر کی لڑکیوں کو عموماَ زچگی کے دوران کئی پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے اور عموماَ ایسی لڑکیوں کی زچگی بذریعہ آپریشن کی جاتی ہے کیونکہ ان کا جسم نارمل زچگی کے لیے ابھی تیار نہیں ہوتا‘ اس وجہ سے لڑکیاں ساری عمر کمزوری کا رونا روتی ہیں۔

   کم عُمر کی لڑکیاں یکے بعد دیگرے دو تین بچوں کی پیدائش کے عمل سے گزریں تو بہت جلد وقت سے پہلے بوڑھی ہونے لگتی ہیں۔

   کم عُمرکی لڑکیوں کے پیدا ہونے والے بچے عموماَ کمزور ہوتے ہیں۔

Read More

مناسب عمر کی شادی

مناسب عُمر کی شادی کے فوائد

ایسی لڑکیاں جن کی شادی مناسب عمر (18 سے 25 سال کے درمیان یا اس سے تھوڑا کم و بیش) میں ہو جاتی ہے وہ نہ صرف جسمانی طور پر فِت رہتی ہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی آسودگی حاصل کرتی ہیں‘ مناسب عُمر کی شادی کے دونوں فریقین میں فوائد ہوتے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:۱۔ مناسب عمر میں شادی ہونے سے دونوں میاں بیوی اپنی ازدواجی زندگی سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔۲۔ مناسب عمر میں شادی کر دینے سے لڑکی جنسی بے راہ روی کا شکار نہیں ہوتی۔۳۔ مناسب عمر کی شادی سے لڑکیوں کو کئی جنسی بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے۔۴۔ اس عمر میں لڑکی کا جسم پختہ ہوتا ہے اس لیے بچوں کی پیدائش کے وقت کی پیچیدگیاں کم سے کم ہوتی ہیں۔۵۔ مناسب عمر کی شادی سے لڑکی بہت سی ذہنی عوارض سے بچی رہتی ہے اور پرسکون زندگی گزارتی ہے۔۶۔ ایسی لڑکیوں کے پیدا ہونے والے بچے زیادہ صحت مند اور توانا ہوتے ہیں۔۷۔ لڑکیوں کی اس عمر میں شادی کر دینے سے وہ سرطان جیسے موذی مرض سے محفوظ ہو جاتی ہے۔۸۔ اس عمر کی لڑکیاں بہتر طور پراپنے بچوں کی پرورش کی ذمہ داریاں نبھا سکتی ہیں۔۹۔ زیادہ اولاد پیدا کرنے کے خواہش ہوتو بخوبی پوری کی جا سکتی ہے۔۰۱۔ لڑکی زیادہ دیر تک خاوند کے لیے جنسی ضرورت پوری کرنے کے قابل رہتی ہے۔بروقت شادی :ذہنی‘ جسمانی و جنسی تندرستی کی ضمانتقرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” وہ بڑی عظمت والی ذات ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس جان سے اس کا ہم جنس جوڑا (عورت) پیدا کیا تاکہ وہ اس کے ساتھ اپنی زندگی میں فطری سکون حاصل کر سکے۔“ (الاعراف)اسلا م کے دستورِ اساسی قرآن نے جنس کے مسئلہ کو جو تقدیس اور پاکیزگی عطا کی ہے وہ ان آیاتِ مبارکہ سے ظاہر ہوتی ہے:” اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے بنائے تاکہ ان کے ساتھ مل کر تُم سکون و اطمینان حاصل کرو اور اس نے تمہارے مابین الفت و محبت کا سامان پیدا کیا‘ بے شک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سوچ و سمجھ سے کام لیتے ہیں۔“ (سورہ روم:۱۲)حدیثِ نبوی ﷺ ہے:جائز طریقے پر ” جنسی خواہش کی تکمیل کرو اس میں بھی صدقہ کا ثواب ہے۔“اس پر صحابہ ؓ نے عرض کیا:” اے اللہ کے رسولﷺ کیا ہم میں سے ایک شخص اپنی شہوانی خواہش پوری کرتا ہے تو اس پر اس کو ثواب ملے گا؟“آپ ﷺ نے جواب دیا:” تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر وہ اس خواہش کو حرام جگہ سے پوری کرے تو کیا وہ سزا کا مستحق نہ ہو گا‘ تو اسی طرح جب وہ اس کو حلال جگہ سے پوری کرے گا تو وہ ثواب کا مستحق ہو گا۔“ (مسلم)اس حدیث کی تشریح میں علامہ نووی ؒ کہتے ہیں کہ جماع عبادت بن جاتا ہے اگر اس سے آدمی کی نیت بیوی کے حق کی ادائیگی اور اس کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہنا ہو‘ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے حُکم دیا ہے یا نیک اولاد کی طلب ہو یا اپنے آپ کو یا بیوی کو عفت ماب رکھنا اور ان دونوں کو حرام کی طرف نگاہ ڈالنے سے یا اس کے بارے میں سوچنے یا اس کا ارادہ کرنے سے باز رکھنا ہو یا اسی طرح کے عمدہ مقاصد میں سے کوئی دوسری ہو۔ (نووی مع المسلم)حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر میری عمر سے صرف دس دن بھی باقی رہ جائیں تو میں نکاح کر لوں کیونکہ میں غیر شادی شُدہ ہونے کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنا پسند نہیں کرتا۔ حضرت معاذ بن جبلؓ کی دو بیویاں طاعون سے انتقال کر گئیں اور آپ کو بھی طاعون ہو گیا‘ آپ نے فرمایا میرا نکاح کر دو کیونکہ میں اللہ تعالیٰ سے مجرد ہونے کی صورت میں ملنا پسند نہیں کرتا۔ ان دونوں حضرات کا یہ ارشاد اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نکاح میں فضیلت سمجھتے تھے۔ احیاالعلوم الدین میں امام غزالیؒ نے حضرت جنید بغدادیؒ کے خیالات بیان فرمائے ہیں کہ ” جماع کی مجھ کو ایسی ہی ضرورت ہے جیسی کہ غذا کی ضرورت ہے‘صحیح بات یہ ہے کہ بیوی غذا اور دل کی صفائی کا سبب ہے۔“ اسی کتاب میں امام غزالیؒ نے خواہشِ جماع کے متعلق لکھا ہے کہ یہ (جنسی خواہش) ایسی عام مصیبت ہے کہ اگر وہ بھڑک اٹھے تو اس کا مقابلہ کسی صورت سے نہ عقل کرسکتی ہے نہ دین اور یہ چیز ہے کہ اس کے اندر اگرچہ (دنیا اور آخرت) دونوں زندگیوں کو سنوارنے کی صلاحیت ہے‘ اس کے ساتھ یہ اولادِ آدم پر شیطان کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔

Read More