Online AL-Aziz Herbal Clinic

Opening Hours : Monday to Sunday
  Contact : +92 321-111-0981  

کم عمر کی شادی

کم عُمر کی شادی کے نقصانات

علمِ صحت کے اصول کے مطابق جاندار اور پودے اپنے جوبن پر پہنچ کر ہی پھل پھول پیدا کرتے ہیں‘ اسی اصول کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے‘ انسان کو بھی اسی وقت اولاد پیدا کرنی چاہیے جب وہ ذہنی و جسمانی پختگی حاصل کرلے۔ اگر لڑکیوں کی شادی مناسب عُمر کے پہنچنے سے قبل ہی کر دی جائے تو ناصر ف اس کی جسمانی نشوونما رُک جائے گی بلکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد بھی طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو گی۔ کم عُمری کی شادی کے نتیجے میں حمل ٹھہر جائے تو وضع حمل کے وقت کئی مشکلا ت کا سامنا رہتا ہے اور عموماََ لڑکی کی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔

کم عُمری کی شادی اس لیے بھی مناسب نہیں ہوتی کہ ابھی لڑکی ذہنی طور پر اتنی پختہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے گھر کی ذمہ داریاں نبھا سکے جس کی وجہ سے کئی معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں۔ کم عُمر کی شادی

کے چیدہ چیدہ نقصانات درج ذیل ہیں:

لڑکی جسمانی طور پر شادی کے لیے تیار نہیں ہوتی جس کی وجہ سے جسمانی طور پر کئی پیچیدگیاں پیدا ہونے کاخدشہ موجود ہوتا ہے۔

   اس دور میں لڑکی کا جسم ایک کونپل کی طرحانتہائی نرم و نازک ہوتا ہے‘ اسلیے یہ ازدواجی ذمہ داریوں اور بچے کی پیدائش کے لوازمات کو پوری طرح سے ادا کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔

   بہت جلد شادی کرنے سے لڑکی کی جسمانی نشوونما رُک جاتی ہے اور بالخصوص پیلوس کی ہڈیوں کی نشوونما مکمل نہیں ہو پاتی جس کی وجہ سے وضع حمل کے وقت کئی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔

   ایسی لڑکیاں جو پیدائشی طور پر کمزور ہوں یا دبلی پتلی ہوں‘ ان کی جلد شادی کردینے سے قد ووزن کم رہ جاتا ہے اور وہ دیکھنے میں بونی لگتی ہیں۔

   اس عُمر کی لڑکیاں اتنی باشعور نہیں ہوتیں کہ وہ نئے گھر میں جا کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکیں‘ جس کی وجہ سے کئی معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں۔

   اس عُمر کی لڑکیاں ذہنی طور پر اتنی پختگی نہیں رکھتیں کہ وہ عملی زندگی کے لوازمات کو بہتر طریقے سے چلا سکیں جس کی وجہ سے ازدواجی زندگی پُرسکون نہیں رہتی۔

   اگر میاں کی عُمر بیوی کی عُمر سے زیادہ ہو تو کم عُمر کی بیوی اور پختہ عمر کے خاوند میں ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے جس کی وجہ سے زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔

   ساس بہو کے جھگڑے زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ساس اپنی بہو سے زیادہ کی طلب گار ہوتی ہے لیکن بہو کم فہمی کی بناءپر اس کی اُمیدوں پر پورا اترنے سے قاصر ہوتی ہے۔

   کم عُمر کی شادی سے عموماََ لڑکیوںکی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہتر شہری ثابت نہیں ہوتیں۔

   کم عُمر کی لڑکیوں کو عموماَ زچگی کے دوران کئی پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے اور عموماَ ایسی لڑکیوں کی زچگی بذریعہ آپریشن کی جاتی ہے کیونکہ ان کا جسم نارمل زچگی کے لیے ابھی تیار نہیں ہوتا‘ اس وجہ سے لڑکیاں ساری عمر کمزوری کا رونا روتی ہیں۔

   کم عُمر کی لڑکیاں یکے بعد دیگرے دو تین بچوں کی پیدائش کے عمل سے گزریں تو بہت جلد وقت سے پہلے بوڑھی ہونے لگتی ہیں۔

   کم عُمرکی لڑکیوں کے پیدا ہونے والے بچے عموماَ کمزور ہوتے ہیں۔