Online AL-Aziz Herbal Clinic

Opening Hours : Monday to Sunday
  Contact : +92 321-111-0981  

مناسب عمر کی شادی

مناسب عُمر کی شادی کے فوائد

ایسی لڑکیاں جن کی شادی مناسب عمر (18 سے 25 سال کے درمیان یا اس سے تھوڑا کم و بیش) میں ہو جاتی ہے وہ نہ صرف جسمانی طور پر فِت رہتی ہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی آسودگی حاصل کرتی ہیں‘ مناسب عُمر کی شادی کے دونوں فریقین میں فوائد ہوتے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:۱۔ مناسب عمر میں شادی ہونے سے دونوں میاں بیوی اپنی ازدواجی زندگی سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔۲۔ مناسب عمر میں شادی کر دینے سے لڑکی جنسی بے راہ روی کا شکار نہیں ہوتی۔۳۔ مناسب عمر کی شادی سے لڑکیوں کو کئی جنسی بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے۔۴۔ اس عمر میں لڑکی کا جسم پختہ ہوتا ہے اس لیے بچوں کی پیدائش کے وقت کی پیچیدگیاں کم سے کم ہوتی ہیں۔۵۔ مناسب عمر کی شادی سے لڑکی بہت سی ذہنی عوارض سے بچی رہتی ہے اور پرسکون زندگی گزارتی ہے۔۶۔ ایسی لڑکیوں کے پیدا ہونے والے بچے زیادہ صحت مند اور توانا ہوتے ہیں۔۷۔ لڑکیوں کی اس عمر میں شادی کر دینے سے وہ سرطان جیسے موذی مرض سے محفوظ ہو جاتی ہے۔۸۔ اس عمر کی لڑکیاں بہتر طور پراپنے بچوں کی پرورش کی ذمہ داریاں نبھا سکتی ہیں۔۹۔ زیادہ اولاد پیدا کرنے کے خواہش ہوتو بخوبی پوری کی جا سکتی ہے۔۰۱۔ لڑکی زیادہ دیر تک خاوند کے لیے جنسی ضرورت پوری کرنے کے قابل رہتی ہے۔بروقت شادی :ذہنی‘ جسمانی و جنسی تندرستی کی ضمانتقرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” وہ بڑی عظمت والی ذات ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس جان سے اس کا ہم جنس جوڑا (عورت) پیدا کیا تاکہ وہ اس کے ساتھ اپنی زندگی میں فطری سکون حاصل کر سکے۔“ (الاعراف)اسلا م کے دستورِ اساسی قرآن نے جنس کے مسئلہ کو جو تقدیس اور پاکیزگی عطا کی ہے وہ ان آیاتِ مبارکہ سے ظاہر ہوتی ہے:” اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے بنائے تاکہ ان کے ساتھ مل کر تُم سکون و اطمینان حاصل کرو اور اس نے تمہارے مابین الفت و محبت کا سامان پیدا کیا‘ بے شک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سوچ و سمجھ سے کام لیتے ہیں۔“ (سورہ روم:۱۲)حدیثِ نبوی ﷺ ہے:جائز طریقے پر ” جنسی خواہش کی تکمیل کرو اس میں بھی صدقہ کا ثواب ہے۔“اس پر صحابہ ؓ نے عرض کیا:” اے اللہ کے رسولﷺ کیا ہم میں سے ایک شخص اپنی شہوانی خواہش پوری کرتا ہے تو اس پر اس کو ثواب ملے گا؟“آپ ﷺ نے جواب دیا:” تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر وہ اس خواہش کو حرام جگہ سے پوری کرے تو کیا وہ سزا کا مستحق نہ ہو گا‘ تو اسی طرح جب وہ اس کو حلال جگہ سے پوری کرے گا تو وہ ثواب کا مستحق ہو گا۔“ (مسلم)اس حدیث کی تشریح میں علامہ نووی ؒ کہتے ہیں کہ جماع عبادت بن جاتا ہے اگر اس سے آدمی کی نیت بیوی کے حق کی ادائیگی اور اس کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہنا ہو‘ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے حُکم دیا ہے یا نیک اولاد کی طلب ہو یا اپنے آپ کو یا بیوی کو عفت ماب رکھنا اور ان دونوں کو حرام کی طرف نگاہ ڈالنے سے یا اس کے بارے میں سوچنے یا اس کا ارادہ کرنے سے باز رکھنا ہو یا اسی طرح کے عمدہ مقاصد میں سے کوئی دوسری ہو۔ (نووی مع المسلم)حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر میری عمر سے صرف دس دن بھی باقی رہ جائیں تو میں نکاح کر لوں کیونکہ میں غیر شادی شُدہ ہونے کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنا پسند نہیں کرتا۔ حضرت معاذ بن جبلؓ کی دو بیویاں طاعون سے انتقال کر گئیں اور آپ کو بھی طاعون ہو گیا‘ آپ نے فرمایا میرا نکاح کر دو کیونکہ میں اللہ تعالیٰ سے مجرد ہونے کی صورت میں ملنا پسند نہیں کرتا۔ ان دونوں حضرات کا یہ ارشاد اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نکاح میں فضیلت سمجھتے تھے۔ احیاالعلوم الدین میں امام غزالیؒ نے حضرت جنید بغدادیؒ کے خیالات بیان فرمائے ہیں کہ ” جماع کی مجھ کو ایسی ہی ضرورت ہے جیسی کہ غذا کی ضرورت ہے‘صحیح بات یہ ہے کہ بیوی غذا اور دل کی صفائی کا سبب ہے۔“ اسی کتاب میں امام غزالیؒ نے خواہشِ جماع کے متعلق لکھا ہے کہ یہ (جنسی خواہش) ایسی عام مصیبت ہے کہ اگر وہ بھڑک اٹھے تو اس کا مقابلہ کسی صورت سے نہ عقل کرسکتی ہے نہ دین اور یہ چیز ہے کہ اس کے اندر اگرچہ (دنیا اور آخرت) دونوں زندگیوں کو سنوارنے کی صلاحیت ہے‘ اس کے ساتھ یہ اولادِ آدم پر شیطان کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔

  • https://wordpress.org/ Mr WordPress

    Hi, this is a comment.
    To delete a comment, just log in and view the post's comments. There you will have the option to edit or delete them.